ضلعی انتظامیہ عوام کو درپیش مسائل کے حل اور انہیں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے

ڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین

کوئٹہ (روزنامہ معلوم ) ڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین کی زیرِ صدارت

خواتین کے مسائل اور شکایات کے فوری ازالے کے لیے کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا جس میں ضلع کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین نے شرکت کی اور اپنے مسائل و شکایات براہِ راست ڈپٹی کمشنر کے سامنے پیش کیے کھلی کچہری کا مقصد خواتین کو ان کے مسائل کے حل کے لیے ایک مؤثر اور براہِ راست پلیٹ فارم فراہم کرنا اور متعلقہ سرکاری محکموں کے ذریعے شکایات کا بروقت ازالہ یقینی بنانا تھا کھلی کچہری کے دوران خواتین نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام BISP سے متعلق مسائل، گیس کی فراہمی، مالی معاونت، علاج معالجے کی سہولیات، بنیادی ضروریات، سرکاری امداد اور دیگر عوامی نوعیت کے مسائل سے متعلق اپنی شکایات اور مشکلات سے ڈپٹی کمشنر کو آگاہ کیا ڈپٹی کمشنر فریدہ ترین نے خواتین کی جانب سے پیش کی جانے والی ہر شکایت کو تفصیل سے سنا اور متعلقہ افسران سے موقع پر ہی صورتحال کے بارے میں معلومات حاصل کیں ڈپٹی کمشنر نے بعض شکایات کے حل کے لیے موقع پر ہی متعلقہ افسران کو ضروری ہدایات جاری کیں جبکہ دیگر درخواستوں اور مسائل کو متعلقہ محکموں کو ارسال کرتے ہوئے ان کے قانون و ضابطے کے مطابق فوری ازالے کی ہدایت کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوامی شکایات کے حل میں غیر ضروری تاخیر ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ محکمے شہریوں بالخصوص خواتین کی شکایات کے ازالے کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنائیں اس موقع پر ڈپٹی کمشنر فریدہ ترین نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو درپیش مسائل کے حل اور انہیں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ خواتین کو درپیش مسائل کے حل کے لیے کھلی کچہریاں ایک مؤثر ذریعہ ہیں جہاں شہری براہِ راست اپنی شکایات ضلعی انتظامیہ تک پہنچا سکتے ہیں انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ کھلی کچہری میں موصول ہونے والی تمام شکایات پر پیش رفت کو باقاعدگی سے مانیٹر کیا جائے اور درخواست گزار خواتین کو کیے گئے اقدامات سے بھی آگاہ رکھا جائے ڈپٹی کمشنر نے مزید ہدایت کی کہ زیرِ التوا شکایات کو مقررہ مدت کے اندر نمٹانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں اور متعلقہ محکموں کے افسران شکایات کے حل میں باہمی رابطے اور مؤثر کوآرڈینیشن کو یقینی بنائیں تاکہ خواتین کو سرکاری اداروں سے متعلق اپنے مسائل کے حل کے لیے غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More