بڑھتی عمر یادداشت کو حیران کن انداز میں تبدیل کر دیتی ہے: تحقیق

کوئٹہ (روزنامہ معلوم ) نفسیات کے ایک حالیہ مطالعے نے یادداشت میں تبدیلی کو بڑھتی عمر کے ساتھ ذہنی صلاحیتوں میں زوال کی علامت سمجھنے کے تصور کو چیلنج کر دیا

۔بڑھتی عمر کے ساتھ دماغی صلاحیتوں میں کمی کو عموماً ایک فطری عمل سمجھا جاتا ہے اور یہ تصور عام ہے کہ معمر افراد اپنی کمزور ہوتی یادداشت کی تلافی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔جریدے سائیکولوجیکل سائنس میں شائع ہونے والی نئی تحقیق اس نقطۂ نظر کو چیلنج کرتی ہے۔سالماتی حیاتیات اور دماغی عکس نگاری سے حاصل ہونے والے شواہد کی بنیاد پر یونیورسٹی آف ایریزونا کے محققین کا کہنا ہے کہ زندگی کے آخری حصے میں ادراک کی صلاحیت انسانی نشوونما کا ایک فطری مرحلہ ہے، جس میں واقعات کی باریک تفصیلات کے بجائے دانائی اور تجربے کو زیادہ اہمیت حاصل ہوتی ہے۔محققین نے اس تصور کو ’بڑھاپے کا ارتقائی مفروضہ‘ (Adaptive Aging Hypothesis) قرار دیا ہے۔ان کے مطابق یہ نظریہ اس بات کی وضاحت کر سکتا ہے کہ معمر افراد تدریس، رہنمائی، قصہ گوئی اور ایسے دیگر کرداروں کے لیے کیوں موزوں ہوتے ہیں جن کے ذریعے وہ اپنی زندگی بھر کا حاصل کردہ علم اور دانائی نوجوان نسل تک پہنچا سکتے ہیں۔تحقیق کے شریک مصنف کا کہنا ہے کہ اگر ہم معمول کے مطابق بڑھتی عمر کو صرف انسانی صلاحیتوں کا زوال سمجھیں تو دراصل ہم ایک اہم پہلو کو نظر انداز کر رہے ہوتے ہیں، معمر افراد کا دماغ نوجوانوں کے دماغ کے مقابلے میں مختلف مقاصد کے لیے زیادہ موزوں ہو جاتا ہے، بالخصوص ایسے تجربات کو دوسروں تک منتقل کرنے کے لیے جن کا انحصار پہلے سے محفوظ شدہ مہارتوں اور سماجی تعلقات پر ہوتا ہے۔دماغ کا حصہ ہپو کیمپس (Hippocampus) کسی تجربے کی باریک اور تفصیلی یادوں کو محفوظ کرنے میں مدد دیتا ہے، جبکہ فرنٹل کارٹیکس (Frontal Cortex) اس تجربے کے مجموعی مفہوم یا بنیادی نکتے پر زیادہ توجہ مرکوز کرتا ہے۔صحت مند انداز میں بڑھتی عمر کے دوران دماغ فطری طور پر ہپو کیمپس پر نسبتاً کم انحصار کرنے لگتا ہے اور فرنٹل کارٹیکس کا کردار زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔شریک مصنف کے مطابق ہمیں یہ رجحان انسانوں اور جانوروں دونوں کے مطالعے میں نظر آتا ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اس کے پیچھے ارتقائی محرک موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ کم عمری میں ہپو کیمپس زیادہ سرگرم ہوتا ہے، کیونکہ اس وقت انسان کے پاس معلومات کا کوئی وسیع ذخیرہ نہیں ہوتا اور نہ ہی اسے دنیا کے کام کرنے کے طریقے کا مکمل ادراک ہوتا ہے، بچہ معلومات جمع کر کے اپنے علم کا ذخیرہ تیار کر رہا ہوتا ہے، زندگی کے ابتدائی مرحلے میں توازن اس جانب جھکا ہوتا ہے کہ انسان واضح یادوں کو درستگی، تفصیل اور سیاق و سباق کے ساتھ محفوظ رکھے۔اس کے برعکس ایک معمر فرد کے پاس علم اور تجربے کا وسیع ذخیرہ موجود ہوتا ہے، جس سے وہ کسی نئے تجربے کو سمجھنے میں مدد لے سکتا ہے، ایسے میں ہر چھوٹی تفصیل کو محفوظ رکھنے کے بجائے نئے تجربے کو پہلے سے حاصل شدہ علم کے ساتھ جوڑنا زیادہ مفید ثابت ہو سکتا ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ دماغ کی ترجیحات بھی تبدیل ہونے لگتی ہیں، وہ انتہائی تفصیلی معلومات جمع کرنے کے بجائے کسی تجربے کے وسیع تر مفہوم، بنیادی تصورات اور مجموعی اہمیت کو سمجھنے پر زیادہ توجہ دینے لگتا ہے

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More