کسی بھی فریق کو قانون ہاتھ میں لینے یا امن و امان کی صورتحال متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی
ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع
کوئٹہ (روزنامہ معلوم ) ۔ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ مائنز لیزان کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا،
جس میں ضلع میں جاری معدنی سرگرمیوں، مائننگ لیزز، مقامی آبادی کے تحفظات، کان کنی سے متعلق تنازعات اور دیگر اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیااجلاس میں متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی اور ضلع میں معدنی وسائل کے استعمال، کان کنی کے علاقوں کی صورتحال، لیز ہولڈرز اور مقامی آبادی کے درمیان پیدا ہونے والے مسائل سمیت مختلف معاملات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اس موقع پر متعلقہ حکام کی جانب سے معدنی سرگرمیوں اور زیرِ غور معاملات کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر کو بریفنگ بھی دی گئی اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ ضلع میں تمام معدنی سرگرمیاں متعلقہ قوانین، قواعد و ضوابط اور سرکاری پالیسی کے مطابق انجام دی جائیں، جبکہ کان کنی کے دوران مقامی آبادی کے جائز حقوق، مفادات اور تحفظات کو بھی مدنظر رکھا جائیڈپٹی کمشنر محمد حسیب شجاع نے کہا کہ معدنی وسائل ضلع کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، تاہم کان کنی کے عمل میں قانون کی بالادستی، شفافیت، مقامی آبادی کے حقوق کا تحفظ اور امن و امان کا قیام اولین ترجیحات میں شامل ہونا چاہییانہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مائننگ سے متعلق معاملات میں تمام فریقین کو قانون کے مطابق سنا جائے اور تنازعات کو باہمی مشاورت، گفت و شنید اور قانونی طریقہ کار کے ذریعے حل کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی فریق کو قانون ہاتھ میں لینے یا امن و امان کی صورتحال متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ محکموں کے درمیان بہتر رابطہ کاری اور بروقت معلومات کے تبادلے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کان کنی سے متعلق شکایات اور مسائل کو بلاوجہ زیرِ التوا رکھنے کے بجائے مقررہ طریقہ کار کے تحت فوری طور پر نمٹایا جائے۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ مائننگ ایریاز میں قانونی تقاضوں، حفاظتی اقدامات اور دیگر متعلقہ امور کی مؤثر نگرانی کی جائے، جبکہ غیر قانونی یا قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ معدنی سرگرمیوں کو قانونی دائرہ کار میں فروغ دیتے ہوئے مقامی آبادی کے حقوق کا تحفظ، تنازعات کا منصفانہ حل اور کان کنی کے علاقوں میں پائیدار امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون سے کام جاری رکھیں گے