پولیو وائرس کی موجودگی اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے
سیکرٹری صحت بلوچستان مجیب الرحمن پانیزئی
کوئٹہ (روزنامہ معلوم ) سیکرٹری صحت بلوچستان مجیب الرحمن پانیزئی نے کہا ہے کہ صوبے کے 32ہائی رسک اضلاع میں سات روزہ انسدادِ پولیو مہم کا آغاز کردیا گیا ہے، جس کے دوران 23لاکھ بچوں کو پولیو سے بچا کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ بلوچستان میں گزشتہ دو برس سے پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہ ہونا اہم کامیابی ہے، تاہم ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے، جس کے خاتمے کے لیے بھرپور اقدامات جاری ہیں۔اپنے بیان میں سیکرٹری صحت بلوچستان نے کہا کہ صوبے میں پولیو کے خاتمے کے لیے محکمہ صحت کی ٹیمیں مسلسل کام کر رہی ہیں اور مختلف مقامات پر پوائنٹس قائم کرکے بچوں کو پولیو سے بچا کے قطرے پلائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں گزشتہ دو سال کے دوران پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا، تاہم صرف کیسز کا سامنے نہ آنا کافی نہیں بلکہ ماحولیاتی نمونوں کو بھی مسلسل منفی رکھنا ضروری ہے۔انہوں نے بتایا کہ ڑوب اور چمن میں دو سرکلز کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی سامنے آئی ہے۔ ان کے مطابق یہ وائرس افغانستان سے بلوچستان میں آنے کی اطلاعات ہیں، جس کے باعث سرحدی علاقوں میں انسدادِ پولیو سرگرمیوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ چمن اور ڑوب میں پولیو مہمات بھرپور انداز میں جاری ہیں جبکہ مختلف مقامات پر بچوں کو ویکسین پلانے کے لیے خصوصی پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں۔سیکرٹری صحت نے کہا کہ بلوچستان کو پولیو سے مکمل طور پر پاک قرار دینے کے لیے مسلسل تین سال تک ماحولیاتی نمونے منفی آنا ضروری ہیں۔ اس مقصد کے لیے پولیو کی نگرانی، ویکسی نیشن اور ماحولیاتی سیمپلنگ کے نظام کو مزید مثر بنایا جا رہا ہے۔مجیب الرحمن پنیزئی نے کہا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے والدین، اساتذہ، علما کرام، میڈیا، قبائلی رہنماں اور معاشرے کے تمام طبقات کا تعاون انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ پولیو ٹیموں کے ساتھ تعاون کریں اور پانچ سال تک عمر کے تمام بچوں کو ہر مہم کے دوران پولیو سے بچا کے قطرے ضرور پلوائیں تاکہ کوئی بچہ حفاظتی ویکسین سے محروم نہ رہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں انسدادِ پولیو مہم کو سیکیورٹی کے حوالے سے بھی مختلف چیلنجز درپیش ہیں، تاہم حکومت پولیو ورکرز کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیو مہم کے لیے سیکیورٹی پلان چیف سیکرٹری بلوچستان کی نگرانی میں تیار اور منظور کیا جاتا ہے، جبکہ متعلقہ اداروں کے تعاون سے پولیو ٹیموں کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔سیکرٹری صحت بلوچستان نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان پولیو کے حوالے سے رابطہ کاری کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اس سلسلے میں کوآرڈینیشن جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرحد کے دونوں جانب وائرس کی منتقلی کے امکانات موجود ہونے کے باعث مشترکہ اور مربوط کوششیں ضروری ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 21ستمبر سے انسدادِ پولیو مہم جاری ہے جبکہ افغانستان میں بھی پولیو مہم چلائی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق افغانستان میں وائرس کی موجودگی برقرار ہے اور حالیہ ہفتے میں وہاں تین سے چار پولیو کیسز بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ افغانستان میں بعض علاقوں میں گھر گھر ویکسی نیشن کے بجائے مختلف پوائنٹس پر بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے، جس کے باعث سرحدی علاقوں میں پولیو وائرس کی نگرانی اور بچوں کی ویکسی نیشن مزید اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔سیکرٹری صحت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے ویکسی نیشن، ماحولیاتی نگرانی، سرحدی علاقوں میں خصوصی اقدامات اور عوامی تعاون کے ذریعے کوششیں مزید تیز کی جائیں گی