خواتین کو محفوظ حمل، محفوظ زچگی اور بعد از زچگی معیاری نگہداشت فراہم کرنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے
(ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی)
کوئٹہ (روزنامہ معلوم ) وزیر اعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ بلوچستان میں خواتین، ماؤں اور بچوں کی صحت کو بہتر بنائے بغیر حقیقی اور پائیدار ترقی کا خواب شرمندتعبیر نہیں ہو سکتا۔ اسینشل پیکج آف ہیلتھ سروسز بلوچستان بنیادی صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس میں زچہ و بچہ کی صحت کو مرکزی حیثیت حاصل ہونی چاہیے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں جغرافیائی پھیلاؤ، دشوار گزار علاقوں اور طبی سہولیات تک رسائی کے مسائل کے باعث خواتین کو حمل کے دوران بروقت طبی نگہداشت کی فراہمی ایک اہم چیلنج ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر حاملہ خاتون کو Antenatal Care (ANC) کی سہولت، باقاعدہ طبی معائنہ، بلڈ پریشر اور ہیموگلوبن کی جانچ، غذائی مشاورت، آئرن اور فولک ایسڈ سپلیمنٹیشن اور خطرے کی علامات کی بروقت تشخیص فراہم کی جائے ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ محفوظ زچگی کے لیے Skilled Birth Attendance بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ کوشش ہونی چاہیے کہ ہر زچگی تربیت یافتہ اور مستند طبی عملے کی نگرانی میں ہو، جبکہ پیچیدہ کیسز کے لیے بنیادی مراکز صحت سے تحصیل اور ضلعی سطح کے ہسپتالوں تک مؤثر Referral System موجود ہو تاکہ کسی بھی ایمرجنسی میں ماں اور بچے کو بروقت اعلیٰ سطح کی طبی نگہداشت میسر آ سکے انہوں نے کہا کہ زچگی کے دوران Postpartum Hemorrhage، Hypertensive Disorders of Pregnancy اور Sepsis جیسی پیچیدگیاں ماں کی زندگی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں، اس لیے بنیادی اور ثانوی سطح کے مراکز صحت پر ضروری ادویات، آلات اور تربیت یافتہ عملے کی دستیابی ناگزیر ہے۔ اسی طرح نومولود بچوں کے لیے فوری اور معیاری Newborn Care، Early Breastfeeding، Thermal Care اور Neonatal Resuscitation کی سہولیات کو بنیادی صحت کے نظام کا لازمی حصہ بنانا ہوگا صوبائی مشیر نے کہا کہ بچوں کی صحت صرف بیماری کے علاج تک محدود نہیں بلکہ اس کا آغاز ماں کی صحت اور حمل کے دوران غذائی نگہداشت سے ہوتا ہے۔ کم وزن، غذائی کمی اور خون کی کمی جیسے مسائل کا براہ راست اثر نومولود کی صحت اور نشوونما پر پڑتا ہے، اس لیے Maternal Nutrition، Breastfeeding، Immunization اور Growth Monitoring کو مربوط انداز میں آگے بڑھانا ضروری ہے انہوں نے کہا کہ خواتین کی صحتکے حوالے سے Reproductive, Maternal, Newborn and Child Health (RMNCH) سروسز کو بنیادی مراکز صحت کی سطح پر مضبوط بنانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔ 164 بنیادی مراکز صحت کا فعال ہونا اس سمت میں اہم پیش رفت ہے، تاہم اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب ان مراکز پر ضروری طبی سہولیات، ادویات، تشخیصی خدمات اور تربیت یافتہ ہیلتھ کیئر ورکرز مستقل بنیادوں پر دستیاب ہوں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ خواتین کو صحت کی سہولیات تک رسائی دینے کے ساتھ ساتھ Community Health Workers، Lady Health Workers اور دیگر فرنٹ لائن ہیلتھ اسٹاف کی استعداد کار بڑھانا بھی ضروری ہے، کیونکہ یہی اہلکار دور دراز علاقوں میں خواتین اور خاندانوں کو صحت، غذائیت، حفاظتی ٹیکہ جات اور حمل سے متعلق احتیاطی تدابیر کے بارے میں آگاہی فراہم کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے وہ سمجھتی ہیں کہ صحت کے شعبے میں بہترین پالیسی وہی ہے جس کے نتائج ماں اور بچے کی صحت کے اشاریوں میں بہتری کی صورت میں نظر آئیں۔ ہماری کامیابی کا معیار صرف نئے مراکز کا قیام نہیں بلکہ Maternal Mortality، Neonatal Mortality اور Infant Mortality میں کمی، بروقت طبی امداد تک رسائی اور خواتین کے لیے معیاری صحت کی سہولیات کی دستیابی ہونا چاہیے صوبائی مشیر نے کہا کہ حکومت بلوچستان صحت کے شعبے میں ایسی مربوط حکمت عملی پر عمل پیرا ہے جس میں بنیادی صحت، ماں اور بچے کی نگہداشت، غذائیت، حفاظتی ٹیکہ جات، بروقت تشخیص اور مؤثر ریفرل سسٹم کو ایک دوسرے سے منسلک کیا جائے۔ خواتین کو محفوظ حمل، محفوظ زچگی اور بعد از زچگی معیاری نگہداشت فراہم کرنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ہر ماں کو یہ حق حاصل ہے کہ اسے حمل کے دوران معیاری طبی نگہداشت، محفوظ زچگی اور ہنگامی صورت حال میں بروقت علاج میسر ہو، جبکہ ہر بچے کو زندگی کے پہلے دن سے ہی معیاری صحت اور غذائیت کا حق حاصل ہے۔ حکومت بلوچستان اس مقصد کے حصول کے لیے محکمہ صحت اور تمام متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ مل کر اقدامات جاری رکھے گی